بدھ 7 جنوری 2026 - 18:04
نیا عالمی نظم و نسق کھلے عام مستکبرین کی خدمت میں!!

حوزہ / سیاسی امور کے ماہرین اور بین الاقوامی قانون دانوں کا کہنا ہے کہ وینزویلا میں امریکہ کا اقدام بالخصوص اس کی نوعیت کے اعتبار سے یعنی براہِ راست فوجی کارروائی کے ذریعے ایک صدر کو حیران کن طور پر اغوا کرنا بین الاقوامی نظم کے رسمی ڈھانچوں کو بے مثال انداز میں چیلنج کر چکا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق متعدد ماہرین اور بین الاقوامی امور کے تجزیہ نگاروں کے اعتراف کے مطابق امریکہ کی جانب سے وینزویلا پر حملہ اور اس ملک کے قانونی صدر کا اغوا محض ایک علاقائی واقعہ نہیں بلکہ یہ سب سے بڑھ کر عالمی سیاست میں بالکل واضح اور بے پردہ طاقت کی واپسی کی علامت ہے اور اس بات کا عملی ترجمہ ہے کہ جنگل کا قانون بلا کم و کاست نافذ ہو چکا ہے اور بین الاقوامی قانون محض نام اور رسمی شناخت تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔

دوسری جانب بعض ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ واقعہ بین الاقوامی نظام میں طاقت کے استعمال کے طریقۂ کار میں ایک واضح تبدیلی کی نشاندہی بھی کرتا ہے یہاں تک کہ ممکن ہے یہ معاملہ ڈونلڈ ٹرمپ کے طرزِ عمل سے آگے بڑھ کر بین الاقوامی تعلقات میں ایک معمول بن جائے۔

جب دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکیوں نے ایک فاتح طاقت کے طور پر اقوام متحدہ کے قیام اور بین الاقوامی قوانین و ضوابط کی تشکیل کے ذریعے عالمی نظم کی بنیاد رکھی تو اس ملک کے بعض اہلِ فکر اس بنیادی نکتے پر زور دیتے تھے کہ اس کا اصل مقصد ایسے اخلاقی اور قانونی اصولوں کا مجموعہ تشکیل دینا ہے جو بالآخر طاقت کے من مانے استعمال کو روکے گا لیکن ٹرمپ کے حالیہ اقدامات بالخصوص وینزویلا کے حوالے سے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی مستکبرین اور ان کے سرِفہرست شیطانِ بزرگ (امریکہ) کے لیے صرف اپنے مفادات کا حصول ہی اہم ہے۔

شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر ڈاکٹر محسن جلیل وند کے بقول موجودہ حالات میں ہم عملاً ایک نئی عالمی بے نظمی میں داخل ہو چکے ہیں۔ اس سے قبل علمی و تحقیقی حلقوں اور بعض اوقات تخصصی نشستوں میں یہ بات کہی جاتی تھی کہ ریاستوں کی حاکمیت کا اصول طاقت کے استعمال کی ممانعت تنازعات کے پرامن حل اور کثیرالجہتی اداروں کا کردار عالمی نظم کے ستون ہیں اگرچہ یہ اصول ہمیشہ مکمل طور پر نافذ نہیں ہوئے لیکن کم از کم ریاستوں کے طرزِ عمل کے لیے ایک جواز فراہم کرنے والے یا محدود کرنے والے فریم ورک کے طور پر کام کرتے رہے اور دنیا کو اس نتیجے تک پہنچایا کہ شاید یہ قوانین اور ادارے جنگ و خونریزی اور بے لگام طاقت کے استعمال کو مکمل طور پر نہ روک سکیں لیکن وقت کے ساتھ اس کی شدت اور وسعت کو کم ضرور کر سکتے ہیں۔

تاہم گزشتہ چند برسوں میں بالخصوص صہیونی حکومت کے غزہ پر بے رحمانہ اور وحشیانہ حملوں نیز امریکہ کے ایران پر حملوں اور اس کی جانب سے شام میں اقتدار پر قابض ہونے کے لیے دہشت گردوں کی مدد کے باعث یہ امید بتدریج مکمل یأس و ناامیدی میں بدلتی جا رہی ہے کیونکہ بین الاقوامی اداروں اور بین الاقوامی قانونی قواعد کی کارکردگی کے خاتمے کی وارننگ والی بتی تو عرصہ دراز سے جل رہی ہے لیکن امریکہ اور صہیونی حکومت کے حالیہ اقدامات عملاً عالمی نظم اور اسی نظم کے قیام سے وابستہ اداروں کا تمسخر اڑانے کے مترادف ہیں۔

سیاسی امور کے ماہرین اور بین الاقوامی قانون دانوں کا ماننا ہے کہ وینزویلا میں امریکہ کا اقدام بالخصوص اس کی نوعیت کے لحاظ سے یعنی براہِ راست فوجی کارروائی کے ذریعے ایک صدر کا حیران کن اغوا اس فریم ورک کو اس بار بے مثال انداز میں چیلنج کر رہا ہے۔ یہ واقعہ عالمی برادری کے سامنے ایک بنیادی سوال کھڑا کرتا ہے کہ آیا بین الاقوامی نظم ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں قواعد تو موجود ہیں مگر لازم الاتباع نہیں رہے یا پھر امریکہ دنیا کے لیے اپنے زعم میں ایک نیا نظم قائم کرنا چاہتا ہے جس میں وہ تمام قواعد و قوانین سے مستثنیٰ ہو۔

دوسری جانب یہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ اگر کسی ملک کی سیاسی حقیقت کو بدلنے کے لیے طاقت کے استعمال کو ایک جائز آپشن بنا دیا گیا تو پورا قانونی بازدارتی نظام منہدم ہو جائے گا اور پھر قواعد کی کھلی خلاف ورزی کی بھی ضرورت باقی نہیں رہے گی کیونکہ ایک بڑی اور بالادست طاقت جیسے امریکہ کے لیے یہی کافی ہوگا کہ وہ خطرے سلامتی یا انصاف کے نام پر اپنی من پسند تعبیر پیش کرے اور بین الاقوامی میدان میں جیسے چاہے اقدامات کرتا پھرے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha